بازتاب تظاهرات مردم بلوچ کراچی علیه ایران و آتش زدن پرچم رژیم در بی بی سی بخش اردو




کراچی میں بلوچ تنظیموں نے ایران میں جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو پھانسی دینے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

بلوچ قوم پرستوں نے ایران پر بلوچوں کی نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے اور کہا کہ پاکستان کی طرح ایران بھی ان کے وسائل پر قابض رہنا چاہتا ہے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مظاہرین نے عبدالمالک ریگی اور ایران کے ان بلوچ قوم پرست کی تصاویر اٹھا رکھیں تھیں جنہیں پھانسی دی گئی ہے۔ اس موقعے پر مظاہرین نے ایران کے پرچم بھی نذر آتش کیا۔

بلوچ نیشنل فرنٹ کے رہنما عبدالوہاب بلوچ کا کہنا تھا کہ عبدالمالک ریگی اور دیگر کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے بلوچ قوم کے حقوق اور آزادی کی بات کی تھی اس لیے انہیں تختہ دار پر چڑھایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنداللہ فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بلوچ قوم پرست جماعت ہے۔

’ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں قومیتوں کا تضاد ہے جب کہ ایران میں مذہب کی بنیاد پر تضاد ہے ایک طرف شیعہ ہیں تو دوسری طرف سنی آْبادی ہے، وہاں جنداللہ نے جو جدوجہد شروع کی ہے اس میں صرف بلوچ ہیں اس لیے جنداللہ کو بلوچستان کی آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے‘۔


مبینہ طور پر پھانسی پانے والے بلوچوں کی تصاویر

بلوچ قوم پرستوں کے مطابق ایران میں گزشتہ دو سال کے دوران سات سو سے زائد بلوچ قوم پرستوں کو پھانسی دی گئی ہے، جن میں شاعر مذہبی رہنما سب شامل تھے۔

وہاب بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچستان کا مغربی حصہ ہو یا مشرقی دونوں طرف بلوچ لڑ رہے ہیں۔ پاکستان میں پاکستانی فوج کے ساتھ لڑ رہے ہیں وہاں ایران میں پاسداران انقلاب کے ساتھ۔ ’ان کی جدوجہد آگے جا کر ہماری جدوجہد سے یکجا ہوگی، ہم وہاں کے ساتھیوں سے رابطے میں ہیں‘۔

بعد میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عبدالوہاب بلوچ نے کہا کہ ایران میں بھی گیس، تیل اور دیگر معدنی وسائل بلوچ علاقے میں ہیں اس لیے انیس سو اٹھائیس میں بلوچستان پر قبضہ سے اب تک وہاں ہر دس سال کے بعد جد و جہد شروع ہوتی رہی ہے اور ادھر بھی بلوچ کا مطالبہ یہی ہے کہ وسائل اور زمین ان کی ہے۔

هیچ نظری موجود نیست:

ارسال یک نظر

از تمامی دوستان محترم متشکریم